صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۳ - جمالات صفر کی تفسیر
جمالات صفر کی تفسیر: سورہ مرسلات کی آیت کا آسان مطلب
صحیح بخاری : ۴۹۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۳۳
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ ، قَالَ : " كُنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ ، كَأَنَّهُ جِمَالَاتٌ صُفْرٌ حِبَالُ السُّفُنِ ، تُجْمَعُ حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ " .
عبدالرحمٰن بن عابس روایت:
´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا` اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۳ کا خلاصہ
یہ روایت سورہ مرسلات کی تفسیر سے متعلق ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ترمي بشرر كالقصر کے بارے میں بتایا کہ وہ تین ہاتھ یا اس سے لمبی لکڑیاں ہوتی تھیں جنہیں لوگ جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے، اور انہیں قصر کہا جاتا تھا۔ پھر آیت كأنه جمالات صفر کی تشریح میں فرمایا کہ اس سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں، جو جمع کر دی جائیں تو آدمی کی کمر کے برابر موٹی ہو جاتی ہیں۔ اس روایت میں قرآن کے الفاظ کو سمجھانے کے لیے عام چیزوں کی مثال دی گئی ہے۔ آیت میں آگ کے بڑے بڑے انگاروں کا ذکر ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قصر اور جمالات صفر دونوں الفاظ کو اپنے زمانے کے معروف استعمال کے مطابق واضح کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی تفسیر میں صحابہ الفاظ کے معروف استعمال کو سامنے رکھتے تھے۔
- کالقصر کی مثال بڑی لکڑیوں سے دی گئی۔
- جمالات صفر کی وضاحت کشتی کی موٹی رسیوں سے کی گئی۔
- قرآنی آیات کے الفاظ کو سمجھنے میں سادہ مثال مدد دیتی ہے۔
