صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۴ - منیٰ کے غار میں سورہ مرسلات

منیٰ کے غار میں سورہ مرسلات: قرآن اور سانپ کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۳۴

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لَأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا ، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهَا " ، فَابْتَدَرْنَاهَا ، فَذَهَبَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا " ، قَالَ عُمَرُ : حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔عمر بن حفص نے کہا مجھے یہ حدیث یاد ہے، میں نے اپنے والد سے سنی تھی، انہوں نے اتنا اور بڑھایا تھا کہ وہ غار منیٰ میں تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سورہ مرسلات کے نزول کے ایک واقعے کو مزید تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے، اس وقت آپ پر سورہ والمرسلات نازل ہوئی۔ آپ اسے تلاوت فرما رہے تھے اور میں آپ کے منہ سے اسے یاد کر رہا تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ وحی کی تازگی آپ کے دہن مبارک میں باقی تھی۔ اسی وقت ایک سانپ غار کی طرف لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ صحابہ بڑھے، مگر وہ بھاگ گیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ آخر میں راوی نے بتایا کہ یہ غار منیٰ میں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست یاد کیا۔
  • وحی کے فوراً بعد صحابہ کا قرآن سیکھنا اس روایت سے ظاہر ہے۔
  • سانپ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شر کا ذکر فرمایا۔
  • اس روایت میں غار کے منیٰ میں ہونے کا اضافہ بھی نقل ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں