صحیح بخاری حدیث ۴۹۸۵ - احرام میں خوشبو اور جبہ
احرام میں خوشبو اور جبہ: عمرہ کے مسئلے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۹۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ يَعْلَى ، كَانَ يَقُولُ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ عَلَيْهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ ، فَجَاءَ يَعْلَى ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا ؟ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ ، فَجِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ " .
یعلیٰ روایت:
کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی ہو۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ موجود تھے کہ ایک شخص کے بارے میں کیا فتویٰ ہے۔ جس نے خوشبو میں بسا ہوا ایک جبہ پہن کر احرام باندھا ہو۔ تھوڑی دیر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنا شروع ہو گئی۔عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کو اشارہ سے بلایا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر (اس کپڑے کے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سایہ کیا گیا تھا) اندر کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس وقت سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے سانس لے رہے تھے، تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی۔پھر یہ کیفیت دور ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق فتویٰ پوچھا تھا وہ کہاں ہے؟ اس شخص کو تلاش کر کے آپ کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جو خوشبو تمہارے بدن یا کپڑے پر لگی ہوئی ہے اس کو تین مرتبہ دھو لو اور جبہ کو اتار دو پھر عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع احرام اور عمرہ کا مسئلہ ہے۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو وحی نازل ہوتے دیکھیں۔ جعرانہ میں ایک شخص آیا جس نے خوشبو لگا کر جبہ پہنے ہوئے احرام باندھا تھا۔ اس نے عمرہ کے بارے میں سوال کیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے کچھ دیر دیکھا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم پر وحی آئی۔ روایت میں اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے کا سرخ ہونا اور تیز سانس لینا بھی بیان ہوا۔ جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے سوال کرنے والے کو بلایا اور فرمایا کہ خوشبو کو تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو، پھر عمرہ میں وہی کرو جو حج میں کرتے ہو۔ اس حدیث میں احرام کی حدیث، عمرہ کا طریقہ، خوشبو کا حکم اور جبہ اتارنے کا حکم آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں خوشبو لگی ہو تو اسے دھونے کا حکم دیا گیا۔
- احرام والے شخص کو جبہ اتارنے کا حکم دیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عمرہ کے عمل کو حج کے عمل کی طرح کرنے کی ہدایت دی۔
- وحی آنے کے بعد مسئلے کا جواب نبی صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا۔
