صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۶ - جنت، دوزخ اور حساب کا بیان
جنت و دوزخ کا مشاہدہ: غریب، مالدار اور آخرت کی فکر
صحیح بخاری : ۵۱۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۹۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَكَانَ عَامَّةَ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ " .
اسامہ روایت:
میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت غریبوں کی تھی۔ مالدار (جنت کے دروازے پر حساب کے لیے) روک لیے گئے تھے البتہ جہنم والوں کو جہنم میں جانے کا حکم دے دیا گیا تھا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ عورتیں تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کے دروازے کا مشاہدہ بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے والوں کی اکثریت غریبوں کی تھی، جبکہ مالدار حساب کے لیے روک لیے گئے تھے۔ پھر فرمایا کہ دوزخ کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ عورتیں تھیں۔ اس حدیث کا انداز ڈرانے اور متوجہ کرنے کا ہے، تاکہ انسان آخرت، حساب اور اپنے عمل کو سنجیدگی سے لے۔ یہاں غریب ہونے کو خود بخود نجات کی ضمانت نہیں کہا گیا، اور مالداری کو خود بخود خرابی بھی نہیں کہا گیا؛ روایت میں مالداروں کے حساب کے لیے روکے جانے کا ذکر ہے۔ دوزخ کے ذکر سے ہر مسلمان کو اپنے اخلاق اور اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت میں حساب ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
- مالداری کے ساتھ حساب کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔
- حدیث انسان کو اپنے عمل کا جائزہ لینے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
- جنت و دوزخ کا ذکر نصیحت کے لیے ہے۔
