صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۶ - لعان کے بعد جدائی
لعان کی حدیث: تہمت کے بعد شرعی فیصلہ
صحیح بخاری : ۵۳۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۰۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَأَحْلَفَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
عبداللہ روایت:
قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میاں بیوی سے قسم کھلوائی اور پھر دونوں میں جدائی کرا دی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع لعان ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی۔ ایسے نازک معاملے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بات کو صرف دعوے پر نہیں چھوڑا، بلکہ دونوں میاں بیوی سے قسم لی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جدائی کرا دی گئی۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ بیوی پر تہمت، قذف اور لعان کا معاملہ عام گھریلو جھگڑا نہیں، بلکہ بہت سنجیدہ شرعی مسئلہ ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جذبات میں فیصلہ کرنے کے بجائے بات شرعی طریقے سے طے کی جائے۔ لعان کی حدیث میں اصل زور قسم، جواب دہی اور نکاح کے اختتام پر ہے، نہ کہ الزام کو پھیلانے پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوی پر سنگین تہمت کا معاملہ شرعی طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔
- لعان میں دونوں فریقوں سے قسم لی گئی، صرف ایک طرف کی بات پر فیصلہ نہیں ہوا۔
- اس واقعے میں لعان کے بعد میاں بیوی کے درمیان جدائی کرا دی گئی۔
- ایسے معاملے میں جذباتی اقدام کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کے فیصلے کو معیار بنایا گیا۔
