صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۷ - اللہ جانتا ہے کون جھوٹا ہے

لعان کی حدیث: سچ، جھوٹ اور توبہ کی یاد دہانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۰۷

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ ، فَجَاءَ فَشَهِدَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ " .

ابن عباس روایت:

ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی، پھر وہ آئے اور گواہی دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی (جو واقعی گناہ کا مرتکب ہوا ہو) رجوع کرے گا؟ اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئیں اور انہوں نے گواہی دی اپنے بَری ہونے کی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۷ کا خلاصہ

یہ حدیث لعان کے ایک بہت سنجیدہ واقعے کو بیان کرتی ہے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی، پھر آ کر گواہی دی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر صاف فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا کوئی توبہ کرے گا؟ یہ جملہ بہت مضبوط نصیحت ہے۔ لعان کی حدیث میں یہاں صرف قانونی پہلو نہیں، بلکہ دل کو جھنجھوڑنے والی بات بھی ہے کہ اللہ سے جھوٹ چھپ نہیں سکتا۔ پھر عورت کھڑی ہوئی اور اپنے بَری ہونے کی گواہی دی۔ اس روایت میں قذف، گواہی، توبہ اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا پیغام واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ اصل حقیقت جانتا ہے، چاہے انسان اپنی بات پر اصرار کرے۔
  • لعان کے موقع پر جھوٹ سے بچنے اور توبہ کی دعوت دی گئی۔
  • عورت کو بھی اپنی صفائی میں گواہی دینے کا حق دیا گیا۔
  • ایسے معاملے میں زبان کی سنگینی اور اللہ کے علم کو یاد رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں