صحیح بخاری حدیث ۵۳۳۴ - شوہر کے سوا سوگ کی حد
عورت کے سوگ کی مدت: تین دن اور شوہر کے لیے چار ماہ دس دن
صحیح بخاری : ۵۳۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۳۴
قَالَتْ زَيْنَبُ : فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ ، فَمَسَّتْ مِنْهُ ، ثُمّ قَالَتْ : أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
زینب روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا۔ ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا۔ اس کے بعد کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار مہینے دس دن کا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوگ کی مدت کا واضح حکم بیان ہوا ہے۔ روایت کے مطابق کسی عورت کے لیے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے شوہر کے۔ شوہر کے لیے سوگ کی مدت چار مہینے دس دن بیان ہوئی ہے۔ اس حدیث میں خوشبو کے استعمال کا ذکر بھی اسی لیے آیا کہ راویہ نے بتایا کہ انہیں خوشبو کی خواہش نہیں تھی، مگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بیان کرنا چاہتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوگ کو شریعت کی مقرر حد میں رکھنا چاہیے۔ غم فطری چیز ہے، مگر سوگ کے ظاہری احکام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اصل معیار ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کے سوا کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ جائز نہیں بتایا گیا۔
- شوہر کے لیے سوگ کی مدت چار مہینے دس دن ہے۔
- شرعی حکم واضح کرنے کے لیے عملی طریقہ بھی اختیار کیا گیا۔
- غم کے باوجود شرعی حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
