صحیح بخاری حدیث ۵۴۲۷ - قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال
قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال اور ایمان کی خوشبو
صحیح بخاری : ۵۴۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۲۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترے سے دی ہے، جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور مزہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ یہ مثال بہت آسان ہے، اس لیے ہر آدمی فوراً سمجھ لیتا ہے کہ قرآن کی تلاوت انسان کے ظاہر اور باطن دونوں پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ جو مومن قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال کھجور جیسی ہے؛ خوشبو نہیں مگر ذائقہ میٹھا ہے۔ منافق اگر قرآن پڑھتا بھی ہے تو ریحانہ کی طرح خوشبو تو رکھتا ہے، مگر ذائقہ کڑوا ہے۔ اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا، وہ اندرائن جیسا ہے۔ قرآن پڑھنے کی فضیلت، مومن کی مثال، اور منافق کی حالت اس حدیث میں صاف بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن پڑھنے والا مومن اپنے ایمان اور تلاوت کی وجہ سے بہتر مثال رکھتا ہے۔
- قرآن نہ پڑھنے والا مومن بھی ایمان کی بنیاد پر خیر رکھتا ہے، مگر تلاوت کی کمی رہتی ہے۔
- صرف ظاہر کی خوبصورتی کافی نہیں، دل کی حالت بھی اہم ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے کے لیے عام چیزوں کی آسان مثالیں دیں۔
