صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۰ - غیر محرم کا شکار اور محرم کا کھانا
احرام میں شکار کا مسئلہ: غیر محرم کے شکار کا گوشت
صحیح بخاری : ۵۴۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۹۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطًا فَأَبَوْا ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا ، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .
ابوقتادہ روایت:
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ مکہ کے راستہ میں ایک جگہ پر اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے پیچھے رہ گئے خود ابوقتادہ رضی اللہ عنہ احرام سے نہیں تھے اسی عرصہ میں انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور (اسے شکار کرنے کے ارادہ سے) اپنے گھوڑے پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے (جو محرم تھے) کوڑا مانگا لیکن انہوں نے دینے سے انکار کیا پھر اپنا نیزہ مانگا لیکن اسے بھی اٹھانے کے لیے وہ تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے وہ خود اٹھایا اور گورخر پر حملہ کیا اور اسے شکار کر لیا پھر بعض نے اس کا گوشت کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔اس کے بعد جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کا حکم پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہارے لیے مہیا کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ ان کے کچھ ساتھی احرام میں تھے، مگر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ احرام میں نہیں تھے۔ انہوں نے گورخر دیکھا اور شکار کا ارادہ کیا۔ محرم ساتھیوں نے کوڑا اور نیزہ دینے سے انکار کیا، کیونکہ وہ اس کام میں مدد نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے خود نیزہ اٹھایا، گورخر کا شکار کیا، پھر بعض ساتھیوں نے گوشت کھایا اور بعض نے رک گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کھانا تھا جو اللہ نے تمہارے لیے مہیا کیا۔ اس روایت میں مدد نہ کرنے اور بعد میں حکم پوچھنے دونوں باتیں صاف نظر آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم ساتھیوں نے شکار میں مدد دینے سے پرہیز کیا۔
- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ خود احرام میں نہیں تھے۔
- صحابہ نے شک ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم پوچھا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گوشت کو اللہ کی طرف سے کھانا فرمایا۔
