صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۱ - شکار کے بچے ہوئے گوشت کا سوال
ابو قتادہ کے شکار کا گوشت: کیا کچھ باقی ہے؟
صحیح بخاری : ۵۴۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۹۱
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ .
ابوقتادہ روایت:
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے` اسی طرح روایت کیا البتہ اس روایت میں یہ لفظ زیادہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے یا نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۱ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے واقعہ ہی کی ایک مختصر صورت ہے، لیکن اس میں ایک اضافی لفظ آیا ہے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے گورخر کے شکار کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت باقی ہے؟ اس جملے سے واقعہ میں ایک اور پہلو سامنے آتا ہے کہ صحابہ نے صرف کھانے یا نہ کھانے کا معاملہ نہیں رکھا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت کے باقی رہنے کا سوال بھی آیا۔ اس حدیث میں اصل بات یہی ہے کہ شکار کرنے والا احرام میں نہیں تھا، محرم ساتھیوں نے شکار میں مدد نہیں کی، اور معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شک والے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیا گیا۔
- روایت میں بچے ہوئے گوشت کے بارے میں سوال کا ذکر ہے۔
- واقعہ کا حکم اسی مخصوص صورت سے متعلق ہے جس میں شک پیدا ہوا تھا۔
- صحابہ کرام کھانے کے مسئلے میں بھی دینی رہنمائی لیتے تھے۔
