صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۲ - محرم ساتھیوں کے ساتھ غیر محرم کا شکار

محرم ساتھیوں کے ساتھ سفر میں گورخر کا شکار: مکمل واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۹۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، وَأَبِي صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ والْمَدِينَةِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَنَا رَجُلٌ حِلٌّ عَلَى فَرَسٍ وَكُنْتُ رَقَّاءً عَلَى الْجِبَالِ ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَيْتُ النَّاسَ مُتَشَوِّفِينَ لِشَيْءٍ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، فَإِذَا هُوَ حِمَارُ وَحْشٍ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : لَا نَدْرِي ، قُلْتُ : هُوَ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ ، فَقَالُوا : هُوَ مَا رَأَيْتَ ، وَكُنْتُ نَسِيتُ سَوْطِي ، فَقُلْتُ لَهُمْ : نَاوِلُونِي سَوْطِي ، فَقَالُوا : لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُ ثُمَّ ضَرَبْتُ فِي أَثَرِهِ ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا ذَاكَ حَتَّى عَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ إِلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : قُومُوا فَاحْتَمِلُوا ، قَالُوا : لَا نَمَسُّهُ ، فَحَمَلْتُهُ حَتَّى جِئْتُهُمْ بِهِ ، فَأَبَى بَعْضُهُمْ وَأَكَلَ بَعْضُهُمْ ، فَقُلْتُ لَهُمْ أَنَا أَسْتَوْقِفُ لَكُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِي : " أَبَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِنْهُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " كُلُوا فَهُوَ طُعْمٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .

ابوقتادہ روایت:

میں مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ دوسرے لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا اور ایک گھوڑے پر سوار تھا۔ میں پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا عادی تھا پھر اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ للچائی ہوئی نظروں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے جو دیکھا تو ایک گورخر تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں! میں نے کہا کہ یہ تو گورخر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ جو تم نے دیکھا ہے وہی ہے۔میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا اس لیے ان سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا دے دو لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں نے اتر کر خود کوڑا اٹھایا اور اس کے پیچھے سے اسے مارا، وہ وہیں گر گیا پھر میں نے اسے ذبح کیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس اسے لے کر آیا۔ میں نے کہا کہ اب اٹھو اور اسے اٹھاؤ، انہوں نے کہا کہ ہم اسے نہیں چھوئیں گے۔ چنانچہ میں ہی اسے اٹھا کر ان کے پاس لایا۔بعض نے تو اس کا گوشت کھایا لیکن بعض نے انکار کر دیا پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں اب تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکنے کی درخواست کروں گا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بچا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا کھاؤ کیونکہ یہ ایک کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ وہ مکہ اور مدینہ کے راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگ احرام میں تھے، مگر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ احرام میں نہیں تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ گورخر ہے۔ انہوں نے کوڑا مانگا تو ساتھیوں نے کہا کہ ہم اس میں تمہاری مدد نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے خود کوڑا لیا، شکار کیا، ذبح کیا اور گوشت لائے۔ بعض نے کھایا، بعض نے انکار کیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ نے پوچھا کہ کچھ باقی ہے؟ پھر فرمایا کہ کھاؤ، یہ اللہ کا دیا ہوا کھانا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • محرم لوگوں نے شکار میں عملی مدد سے پرہیز کیا۔
  • غیر محرم نے اپنا کام خود کیا اور شکار کیا۔
  • اختلاف یا شک ہو تو دینی حکم پوچھنا بہتر ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخصوص گوشت کو کھانے کی اجازت دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں