صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۶ - اہل کتاب کے برتن اور بسم اللہ کے ساتھ شکار

اہل کتاب کے برتن اور شکار: بسم اللہ کے ساتھ حلال کا خیال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۹۶

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ، وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْهُ " .

ابوثعلبہ خشنی روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں اپنے تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے اور بےسدھائے کتے سے بھی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھایا کرو۔ البتہ اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑ جائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو اور جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو اسے کھاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۶ کا خلاصہ

یہ حدیث ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے سوال کا جواب ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں، ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں، اور شکار کی زمین میں رہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، مگر جب ضرورت ہو اور کوئی چارہ نہ ہو تو انہیں خوب دھو کر کھاؤ۔ شکار کے بارے میں فرمایا کہ تیر کمان سے شکار کرو تو اللہ کا نام لو اور کھاؤ۔ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرو تو اللہ کا نام لو اور کھاؤ۔ غیر سدھائے ہوئے کتے سے شکار ہو تو اگر تم اسے ذبح کر لو، پھر کھاؤ۔ اس روایت میں پاکیزگی، ضرورت، بسم اللہ اور شکار کی صورتوں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل کتاب کے برتن ضرورت کے وقت دھو کر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
  • شکار میں اللہ کا نام لینا واضح طور پر بیان ہوا ہے۔
  • سدھائے ہوئے کتے اور غیر سدھائے کتے کا حکم الگ ہے۔
  • غیر سدھائے کتے کے شکار میں ذبح کرنے کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں