صحیح بخاری حدیث ۵۸۲۷ - لا إله إلا الله اور جنت کی امید
لا إله إلا الله کی حدیث: ایمان، توبہ اور جنت کی امید
صحیح بخاری : ۵۸۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ، وَهُوَ نَائِمٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ، عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ ، وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا ، قَالَ : وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ قَبْلَهُ ، إِذَا تَابَ وَنَدِمَ ، وَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غُفِرَ لَهُ .
ابوذر روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.») ضرور بیان کرتے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا یہ صورت کہ (صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے (گناہوں سے) توبہ کی اور کہا کہ «لا إله إلا الله» اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ لا إله إلا الله کہے اور پھر اسی پر اس کی موت آئے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بار بار پوچھا کہ اگر اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے ہر بار فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چاہے چوری کی ہو۔ روایت کے آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ کی وضاحت بھی دی گئی ہے کہ یہ بات موت کے وقت یا اس سے پہلے توبہ اور ندامت کے ساتھ ہے۔ اس لیے اس حدیث کو گناہ کی اجازت سمجھنا درست نہیں۔ لا إله إلا الله کی حدیث، کلمہ طیبہ کی فضیلت، توبہ کی اہمیت اور جنت کی امید اس روایت کے اہم پہلو ہیں۔ بندہ گناہ سے بچے، اور اگر گناہ ہو جائے تو توبہ، ندامت اور ایمان پر قائم رہنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لا إله إلا الله پر ایمان بہت بڑی نعمت ہے۔
- گناہ کو معمولی سمجھنا درست نہیں، توبہ اور ندامت ضروری ہیں۔
- حدیث میں جنت کی امید بیان ہوئی ہے، گناہ پر دلیر ہونے کی اجازت نہیں۔
- ایمان پر خاتمہ ایک بہت اہم بات ہے۔
