صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۰ - نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ کھانا
نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ کھانا: سادگی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۰
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمْ يَأْكُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ ، وَمَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور نہ وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی تناول فرمائی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ آپ نے باریک چپاتی تناول فرمائی۔ یہ بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی کو دکھاتا ہے۔ حدیث کا اصل موضوع سادگی ہے، نہ کہ کھانے کے آداب کی ہر تفصیل۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی میں تکلف، دکھاوا اور کھانے پینے کی نمائش نہیں تھی۔ سادہ کھانا انسان کو اپنی ضرورت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کھانا نعمت ہے، مگر نعمت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت نفیس اور خاص چیزیں ہی مطلوب ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سادگی صاف نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی زندگی کھانے پینے میں سادہ تھی۔
- کھانے میں تکلف ضروری نہیں۔
- دنیاوی سہولت نہ ہونا دینی کمی کی علامت نہیں۔
- نعمت ملے تو شکر ہو، نہ ملے تو بے جا شکوہ نہ ہو۔
