صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۱ - نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کی سادگی
نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کی سادگی اور قناعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي ، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ ، فَفَنِيَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوا تھوڑے سے جَو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں ہی سے کھاتی رہی آخر اکتا کر جب بہت دن ہو گئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہو گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کے توشہ خانہ میں کوئی ایسا غلہ نہ تھا جو جاندار کھا سکے، سوائے تھوڑے سے جَو کے۔ وہ ان ہی جَو میں سے کھاتی رہیں، پھر جب بہت دن گزر گئے تو انہوں نے انہیں ناپا، تو وہ ختم ہو گئے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام قناعت اور سادہ زندگی ہے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی مالی حالت کا ایک سچا بیان ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ دنیاوی ذخیرہ نہ ہونا آپ کی شان میں کمی نہیں تھا۔ یہ حدیث انسان کو اپنے گھر، رزق اور خواہشات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ضرورت اور خواہش میں فرق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے گھر میں دنیاوی ذخیرہ بہت کم تھا۔
- تھوڑی نعمت پر بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
- رزق کی کمی انسان کی دینی قدر کم نہیں کرتی۔
- ضرورت اور خواہش کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔
