صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۲ - مستقل عمل کی فضیلت
مستقل عمل کی حدیث: تھوڑا مگر ہمیشہ
صحیح بخاری : ۶۴۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۶۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل تھا جس کو آدمی ہمیشہ کرتا رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل تھا جسے آدمی ہمیشہ کرتا رہے۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر عبادت اور نیکی کے معاملے میں بڑا عملی اصول دیتی ہے۔ انسان کبھی جوش میں بہت زیادہ کام شروع کر دیتا ہے، پھر جلد چھوڑ دیتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ایسا عمل بہتر ہے جو جاری رہے۔ اس میں عمل کی مقدار سے زیادہ دوام کا ذکر ہے۔ نماز، ذکر، تلاوت، صدقہ یا کوئی بھی نیک عمل ہو، اگر انسان اسے اپنی طاقت کے مطابق مسلسل کرے تو یہ طریقہ زیادہ مضبوط ہے۔ حدیث انسان کو غیر ضروری دباؤ کے بجائے مستقل مزاجی کی طرف لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر انسان قائم رہے۔
- نیکی میں مستقل مزاجی اہم ہے۔
- کبھی کبھار کے زیادہ عمل سے بہتر ہے کہ قابل دوام عمل کیا جائے۔
- عبادت کو اپنی طاقت کے مطابق معمول بنانا چاہیے۔
