صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۹ - منت تقدیر سے آگے نہیں لے جاتی
نذر اور تقدیر: منت اللہ کے فیصلے کو نہیں بدلتی
صحیح بخاری : ۶۶۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۹
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَأْتِ ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ قَدْ قَدَّرْتُهُ ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ الْقَدَرُ وَقَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ ، أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر (منت) انسان کو کوئی چیز نہیں دیتی جو میں (رب) نے اس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو بلکہ وہ تقدیر دیتی ہے جو میں (رب) نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے، البتہ اس کے ذریعہ میں بخیل کا مال نکلوا لیتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نذر اور تقدیر کا تعلق واضح کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر ابن آدم کو وہ چیز نہیں دیتی جو اللہ نے اس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو۔ جو چیز ملتی ہے وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے فیصلے کے مطابق ملتی ہے۔ نذر کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے ذریعے بخیل کا مال نکلوایا جاتا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ بندے کو اللہ کے فیصلے پر ایمان رکھنا چاہیے اور نیکی کو سودا بنانے کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔ منت کی حدیث ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ انسان اللہ سے دعا نہ کرے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ نذر کو تقدیر بدلنے کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔ اصل اعتماد اللہ پر ہے، نہ کہ شرط لگا کر کیے گئے وعدے پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نذر وہ چیز نہیں دلاتی جو تقدیر میں نہ لکھی ہو۔
- جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے فیصلے سے ملتا ہے۔
- نذر کے ذریعے بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
- اللہ پر بھروسہ شرطی منت سے زیادہ اہم ہے۔
