صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۰ - لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیلت
لا حول ولا قوة إلا بالله: جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ
صحیح بخاری : ۶۶۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا ، وَلَا نَعْلُو شَرَفًا ، وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ ، إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ ، قَالَ : فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً هِيَ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے اور جب بھی ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو تکبیر بلند آواز سے کہتے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آئے اور فرمایا ”اے لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔“پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ سکھا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ (وہ کلمہ ہے) «لا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی طاقت و قوت اللہ کے سوا اور کسی کے پاس نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ذکر اور دعا کا بہت آسان ادب بتایا گیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر یا غزوہ میں جب بلندی پر چڑھتے یا وادی میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے آپ پر رحم کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ اس ذات کو پکار رہے ہو جو بہت سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لا حول ولا قوة إلا بالله سکھایا اور فرمایا کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق ذکر کی حدیث، دعا کا ادب، اور لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیلت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ قریب ہے، سنت کے مطابق ذکر میں سکون اور ادب ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذکر اور دعا میں آواز کو حد سے زیادہ بلند کرنا ضروری نہیں۔
- اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
- لا حول ولا قوة إلا بالله جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ ہے۔
- دعا میں ادب، سکون اور اللہ کی قربت کا احساس ہونا چاہیے۔
