صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۱ - حاکم کے نیک اور برے مشیر
حاکم کے مشیر: نیک مشورہ اور برے مشورے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۱
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اسْتُخْلِفَ خَلِيفَةٌ إِلَّا لَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی کوئی شخص حاکم ہوتا ہے تو اس کے صلاح کار اور مشیر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں اور معصوم وہ ہے جسے اللہ محفوظ رکھے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حکومت، ذمہ داری اور مشاورت کے بارے میں مختصر مگر اہم بات آئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کوئی شخص حاکم بنایا جاتا ہے تو اس کے دو طرح کے مشیر ہوتے ہیں۔ ایک گروہ اسے نیکی اور بھلائی کا حکم دیتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے۔ دوسرا گروہ اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ محفوظ وہی ہے جسے اللہ محفوظ رکھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حاکم کے مشیر، اچھی صحبت، اور برے مشورے سے بچنا ہے۔ یہ بات صرف حکمران کے لیے نہیں، ہر ذمہ دار شخص کے لیے بھی سمجھنے والی ہے، کیونکہ فیصلوں پر اردگرد کے لوگوں کا اثر پڑتا ہے۔ آدمی کو ایسے لوگوں کی صحبت چاہیے جو خیر کی طرف بلائیں، نہ کہ برائی کی طرف دھکیلیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاکم یا ذمہ دار شخص کے اردگرد اچھے اور برے دونوں طرح کے مشیر ہو سکتے ہیں۔
- نیک مشیر خیر کی طرف بلاتے اور اس پر ابھارتے ہیں۔
- برے مشیر شر کی طرف بلاتے اور اس پر ابھارتے ہیں۔
- حقیقی حفاظت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔
