صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۹ - طاعون میں صبر اور اجر

طاعون کی حدیث: صبر، احتساب اور تقدیر پر یقین

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۹

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ : " كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ ، مَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ فِي بَلَدٍ يَكُونُ فِيهِ ، وَيَمْكُثُ فِيهِ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَلَدِ ، صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ " .

عائشہ روایت:

´مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نضر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ طاعون پہلے عذاب تھا، اللہ جس پر چاہتا بھیجتا تھا، پھر اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا۔ پھر فرمایا کہ جو بندہ ایسے شہر میں ہو جہاں طاعون پھیل گیا ہو، وہ وہاں ٹھہرا رہے، شہر سے نہ بھاگے، صبر کرے، اجر کی امید رکھے، اور یہ یقین رکھے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔ اس حدیث کا موضوع طاعون کی حدیث، وبا میں صبر، تقدیر پر ایمان، اور اجر کی امید ہے۔ یہاں خاص شرطیں ذکر ہوئی ہیں: ٹھہرنا، نہ بھاگنا، صبر، احتساب، اور اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر یقین۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وبا کے وقت صبر اور اللہ سے اجر کی امید اہم ہے۔
  • حدیث میں شہر سے نہ بھاگنے کی شرط بیان ہوئی ہے۔
  • بندے کو یقین رکھنا چاہیے کہ وہی پہنچے گا جو اللہ نے لکھا ہے۔
  • ان شرطوں کے ساتھ طاعون میں رہنے والے کے لیے شہید کے برابر اجر بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں