صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۰ - غزوہ خندق کی دعا اور ثابت قدمی
غزوہ خندق کی دعا: ہدایت، سکینت اور ثابت قدمی
صحیح بخاری : ۶۶۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۰
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَنَا جَريِرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاء بْنِ عَازِب ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَهُوَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ، وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا ، وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " .
براء بن عازب روایت:
میں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔ ”واللہ، اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے۔ نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ پس اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور جب سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صحابہ کے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات کہتے جاتے تھے کہ اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ روزہ رکھتے اور نہ نماز پڑھتے۔ پھر دعا فرمائی کہ اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما اور جب مقابلہ ہو تو ہمارے قدم ثابت رکھ۔ اس حدیث کا موضوع غزوہ خندق، ثابت قدمی کی دعا، اللہ کی توفیق، روزہ اور نماز کی نعمت ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ہے کہ آپ مشقت میں صحابہ کے ساتھ شریک تھے، اور دعا بھی ہے کہ مدد، ہدایت اور سکون اللہ سے مانگا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدایت، نماز اور روزہ اللہ کی توفیق سے ہیں۔
- مشکل وقت میں اللہ سے سکینت اور ثابت قدمی مانگنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے دن صحابہ کے ساتھ کام میں شریک تھے۔
- دشمن کے مقابلے میں مدد اللہ سے مانگی گئی۔
