صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۲ - ڈھال کی قیمت اور چوری کی حد
ڈھال کی قیمت والی حدیث: چوری کی حد کا عملی معیار
صحیح بخاری : ۶۷۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۹۲
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ " أَنَّ يَدَ السَّارِقِ لَمْ تُقْطَعْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا فِي ثَمَنِ مِجَنٍّ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ " ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : مِثْلَهُ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ بغیر لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی چوری پر ہی کاٹا جاتا تھا۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح (بیان کیا)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع چوری کی حد اور مال کی قیمت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ بغیر لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی چوری پر ہی کاٹا جاتا تھا۔ اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ جس چیز پر حد قائم ہوئی وہ قیمت رکھنے والی چیز تھی۔ اس لیے یہ حدیث چوری کی حد، ڈھال کی قیمت حدیث اور مال کی قیمت کے نصاب سے متعلق ہے۔ متن میں صرف ڈھال کی مثال آئی ہے، اس لیے اس سے باہر تفصیلی فقہی بحث یہاں شامل نہیں کی جا رہی۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ چوری کے معاملے میں صرف عمل نہیں، مال کی قیمت بھی زیر بحث آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں قیمت والی ڈھال کی چوری کا ذکر آیا ہے۔
- چوری کی حد میں مال کی قیمت کا پہلو سامنے آتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے کی ایک عملی مثال روایت میں بیان ہوئی ہے۔
- اس روایت میں ڈھال کی قسم اور قیمت پر زور ہے۔
