صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۵ - تین درہم کی ڈھال

تین درہم کی ڈھال: چوری کی حد کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۹۵

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قِيمَتُهُ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع چوری کی حد اور تین درہم قیمت والی ڈھال ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ اس روایت میں چوری کی حد، تین درہم حدیث اور ڈھال کی قیمت کا ذکر صاف لفظوں میں ہے۔ یہاں اصل تعلیم یہ ہے کہ حد ایک ایسے مال پر قائم ہوئی جس کی قیمت بیان کی گئی۔ حدیث میں صرف ایک واقعہ اور قیمت کا ذکر ہے، اس لیے تشریح کو اسی متن تک رکھنا چاہیے۔ یہ روایت ان احادیث کے ساتھ مل کر چوری کے نصاب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جن میں ربع دینار کا ذکر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں تین درہم قیمت والی ڈھال کا ذکر ہے۔
  • چوری کی حد کے واقعے میں مال کی قیمت بیان ہوئی ہے۔
  • حدیث حد کے عملی نفاذ کی ایک مثال دیتی ہے۔
  • متن میں ڈھال اور اس کی قیمت دونوں اہم ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں