صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۴ - قیمت والی ڈھال پر حد

چوری کی حد میں قیمت کا اعتبار: ڈھال والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۹۴

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ تُرْسٍ ، أَوْ حَجَفَةٍ ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع چوری کی حد میں مال کی قیمت کا اعتبار ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ روایت میں لکڑی کے چمڑے کی ڈھال اور عام ڈھال دونوں کا ذکر ہے، اور دونوں کو قیمت والی چیزیں بتایا گیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کو ڈھال کی قیمت حدیث، چوری کی حد کا نصاب اور چوری کی سزا حدیث کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ حد کا معاملہ کسی معمولی چیز کے بیان پر نہیں، بلکہ قیمت رکھنے والی چیز کی مثال پر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چوری کی حد میں قیمت والی چیز کا ذکر ہے۔
  • ڈھال کی قیمت سے کم پر ہاتھ نہ کاٹنے کی بات روایت میں آئی ہے۔
  • حدیث میں دو قسم کی ڈھالوں کا نام آیا ہے۔
  • متن چوری کے نصاب کے عملی پہلو کو واضح کرتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں