صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۷ - پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار

پڑوسی کے حق کی حدیث: شفعہ اور قریب رہنے والے کا لحاظ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۷۷

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، قَالَ جَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى سَعْدٍ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ ، لِلْمِسْوَرِ : أَلَا تَأْمُرُ هَذَا أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِي الَّذِي فِي دَارِي ؟ ، فَقَالَ : لَا أَزِيدُهُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةٍ إِمَّا مُقَطَّعَةٍ وَإِمَّا مُنَجَّمَةٍ ، قَالَ : أُعْطِيتُ خَمْسَ مِائَةٍ نَقْدًا فَمَنَعْتُهُ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ، مَا بِعْتُكَهُ ، أَوْ قَالَ : مَا أَعْطَيْتُكَهُ " ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : إِنَّ مَعْمَرًا لَمْ يَقُلْ هَكَذَا ، قَالَ : لَكِنَّهُ قَالَ لِي هَكَذَا ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : إِذَا أَرَادَ أَنْ يَبِيعَ الشُّفْعَةَ ، فَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ ، فَيَهَبَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي الدَّارَ ، وَيَحُدُّهَا وَيَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيُعَوِّضُهُ الْمُشْتَرِي أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَلَا يَكُونُ لِلشَّفِيعِ فِيهَا شُفْعَةٌ .

عمرو بن شرید روایت:

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ رکھا پھر میں ان کے ساتھ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو ابورافع نے اس پر کہا کہ اس کا چار سو سے زیادہ میں نہیں دے سکتا اور وہ بھی قسطوں میں دوں گا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے پانچ سو نقد مل رہے تھے اور میں نے انکار کر دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ بیچتا۔علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے اس پر پوچھا کہ معمر نے اس طرح نہیں بیان کیا ہے۔ سفیان نے کہا کہ لیکن مجھ سے تو ابراہیم بن میسرہ نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ شفیع کو حق شفعہ نہ دے تو اسے حیلہ کرنے کی اجازت ہے اور حیلہ یہ ہے کہ جائیداد کا مالک خریدار کو وہ جائیداد ہبہ کر دے پھر خریدار یعنی موہوب لہ اس ہبہ کے معاوضہ میں مالک جائیداد کو ہزار درہم مثلاً ہبہ کر دے اس صورت میں شفیع کو شفعہ کا حق نہ رہے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ابورافع رضی اللہ عنہ نے اپنا گھر بیچنے کے معاملے میں پڑوسی کے حق کو سامنے رکھا۔ انہیں پانچ سو نقد مل رہے تھے، مگر انہوں نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق ہے تو میں یہ گھر تمہیں نہ بیچتا۔ اس حدیث میں پڑوسی کا حق صرف اخلاقی بات کے طور پر نہیں، بلکہ خرید و فروخت کے معاملے میں بھی سامنے آتا ہے۔ متن میں بعد میں شفعہ ختم کرنے کے لیے حیلے کا ذکر ہے، جس سے اصل پیغام اور صاف ہو جاتا ہے کہ حق دار کے حق کو چالاکی سے ختم کرنا درست رویہ نہیں۔ پڑوسی کے حق کی حدیث ہمیں معاملات میں انصاف، صاف نیت اور قریب رہنے والوں کا لحاظ سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پڑوسی کے حق کو مالی معاملے میں بھی اہم سمجھا گیا ہے۔
  • زیادہ قیمت ملنے کے باوجود حق دار کا لحاظ کیا جا سکتا ہے۔
  • شفعہ یا پڑوسی کے حق کو حیلے سے ختم کرنا درست رویہ نہیں لگتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں