صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۸ - پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق
حق شفعہ کی حدیث: پڑوسی کے حق کو حیلے سے نہ گرائیں
صحیح بخاری : ۶۹۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۷۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ سَعْدًا سَاوَمَهُ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالٍ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ " ، لَمَا أَعْطَيْتُكَ ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : إِنِ اشْتَرَى نَصِيبَ دَارٍ فَأَرَادَ أَنْ يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ ، وَهَبَ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ ، وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ يَمِينٌ .
ابورافع روایت:
سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک گھر کی چار سو مثقال قیمت لگائی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ دیتا۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی گھر کا حصہ خریدا اور چاہا کہ اس کا حق شفعہ باطل کر دے تو اسے اس گھر کو اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر دینا چاہیے، اب نابالغ پر قسم بھی نہیں ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر کے معاملے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان بیان کیا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے گھر دینے کی بات کی۔ متن میں آگے بعض لوگوں کے اس حیلے کا ذکر ہے کہ گھر کا حصہ خرید کر پھر اسے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر دیا جائے تاکہ شفعہ کا حق ختم ہو جائے۔ حدیث کا مرکزی پہلو پڑوسی کا حق اور حق شفعہ ہے۔ اس سے سادہ سبق یہ ملتا ہے کہ معاملات میں صرف ظاہری صورت نہ دیکھی جائے، بلکہ حق دار کے حق کو بھی سامنے رکھا جائے۔ حق شفعہ کی حدیث خرید و فروخت میں امانت اور صاف رویے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی اپنے قریب ہونے کی وجہ سے خاص حق رکھتا ہے۔
- حق شفعہ کو ختم کرنے کے لیے حیلہ کرنا درست نیت نہیں دکھاتا۔
- خرید و فروخت میں ظاہری کاغذی صورت کے ساتھ اصل حق کا خیال بھی ضروری ہے۔
