صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۱ - پڑوسی حقِ پڑوس کا زیادہ حقدار
پڑوسی کے حق کی حدیث: گھر بیچتے وقت قریب رہنے والے کا لحاظ
صحیح بخاری : ۶۹۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۸۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ سَاوَمَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالٍ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ " مَا أَعْطَيْتُكَ .
عمرو بن شرید روایت:
ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایک گھر چار سو مثقال میں بیچا اور کہا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی حق پڑوس کا زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو یہ گھر نہ دیتا (اور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالتا)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک گھر کا معاملہ کیا۔ قیمت چار سو مثقال ذکر ہوئی۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی حق پڑوس کا زیادہ حقدار ہے، تو میں آپ کو یہ گھر نہ دیتا۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ پڑوسی کا حق صرف سلام دعا یا اچھے برتاؤ تک محدود نہیں، بلکہ بعض مالی معاملات میں بھی اس کا لحاظ کیا گیا ہے۔ گھر، پڑوس اور حق شفعہ جیسے معاملات میں قریبی تعلق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پڑوسی کے حق کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں رہائشی قربت بھی ذمہ داری پیدا کرتی ہے، اور انسان کو اپنے فائدے کے ساتھ دوسرے کے حق کو بھی دیکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کا حق مالی معاملے میں بھی سامنے آتا ہے۔
- گھر بیچتے وقت قریب رہنے والے کے حق کا لحاظ کیا جا سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان کی وجہ سے صحابہ اپنے لین دین میں حق کو ترجیح دیتے تھے۔
