صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۳ - نفاق کا اظہار
نفاق کا کھلم کھلا اظہار: حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول
صحیح بخاری : ۷۱۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۱۳
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَئِذٍ يُسِرُّونَ ، وَالْيَوْمَ يَجْهَرُونَ " .
حذیفہ بن الیمان روایت:
آج کل کے منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے بدتر ہیں۔ اس وقت چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۳ کا خلاصہ
اس روایت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کا ایک اہم قول نقل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے منافق نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے کے منافقین سے بدتر ہیں، کیونکہ اس وقت وہ نفاق کو چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں۔ یہاں اصل بات نفاق کی علامت، دین کے خلاف کھلا رویہ اور ایمان کے دعوے کے ساتھ اندرونی خرابی کے بارے میں ہے۔ اس روایت کو نفاق کی حدیث، منافق کی نشانیاں، منافقت کا اظہار اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے اقوال کے ضمن میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ متن سے یہی بات ملتی ہے کہ چھپی ہوئی خرابی جب علانیہ ہو جائے تو معاملہ زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفاق کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
- حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کھلے اظہار کو زیادہ سنگین انداز میں بیان کیا۔
- دین کے معاملے میں ظاہری دعوے کے ساتھ عمل اور رویہ بھی اہم ہے۔
- روایت خاص طور پر نفاق کے کھلم کھلا اظہار کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
