صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۴ - ایمان کے بعد کفر
نفاق اور ایمان کے بعد کفر کا فرق
صحیح بخاری : ۷۱۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۱۴
حَدَّثَنَا خَلَّادٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " إِنَّمَا كَانَ النِّفَاقُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكُفْرُ بَعْدَ الْإِيمَانِ " .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نفاق تھا آج تو ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۴ کا خلاصہ
اس روایت میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں نفاق تھا، آج تو ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک مختصر مگر بہت سخت بات ہے۔ اس سے مراد متن کے اندر اسی فرق کی طرف اشارہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں کچھ لوگ اپنے اندر کی بات چھپاتے تھے، جبکہ بعد کے حالات میں معاملہ کھلے انکار تک پہنچ گیا۔ اس روایت کو ایمان کے بعد کفر، نفاق، منافقت کی حدیث اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے اقوال کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی شخص پر حکم لگانے کی تفصیل نہیں، بلکہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور کے دینی بگاڑ کو سخت لفظوں میں بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کے بعد دین سے پھرنے کا معاملہ بہت سنگین ہے۔
- حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نفاق اور کھلے انکار کے فرق کو بیان کیا۔
- دین کے معاملے میں ظاہری اور عملی حالت دونوں کی فکر ضروری ہے۔
- روایت ہمیں ایمان کی حفاظت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
