صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۹ - خیف بنو کنانہ میں قیام
خیف بنو کنانہ کی حدیث: حج میں ان شاء اللہ کے ساتھ قیام
صحیح بخاری : ۷۴۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ يُرِيدُ الْمُحَصَّبَ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) فرمایا کہ ہم کل ان شاء اللہ خیف، بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں ایک زمانہ میں کفار مکہ نے کفر ہی پر قائم رہنے کی آپس میں قسمیں کھائیں تھیں آپ کی مراد وادی محصب سے تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ ہم کل ان شاء اللہ خیف بنو کنانہ میں قیام کریں گے۔ روایت میں بتایا گیا کہ آپ کی مراد وادی محصب تھی، اور وہ جگہ وہی تھی جہاں ایک زمانے میں کفار مکہ نے کفر پر قائم رہنے کی آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔ اس حدیث کا اصل متن ایک مقام، ایک ارادہ اور ان شاء اللہ کے استعمال کو بیان کرتا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر اور قیام جیسے عملی معاملات میں بھی اللہ کی مشیت کو یاد رکھا۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی جگہ کا سابقہ پس منظر ہو سکتا ہے، مگر وہاں قیام کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے ضمن میں آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر اور قیام کے ارادے میں ان شاء اللہ کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- خیف بنو کنانہ اور محصب کا ذکر اس روایت میں واضح طور پر آیا ہے۔
- ماضی کے واقعات والی جگہ پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر کا فیصلہ بیان فرمایا۔
- ارادہ کرتے وقت اللہ کی مشیت کو یاد رکھنا چاہیے۔
