صحیح بخاری حدیث ۸۵۴ - کچا لہسن اور مسجد کا ادب

کچا لہسن کھا کر مسجد میں نہ آنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۵۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَانَا فِي مَسَاجِدِنَا " ، قُلْتُ : مَا يَعْنِي بِهِ ، قَالَ : مَا أُرَاهُ يَعْنِي إِلَّا نِيئَهُ ، وَقَالَ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا نَتْنَهُ .

جابر بن عبداللہ انصاری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ درخت کھائے (آپ کی مراد لہسن سے تھی) تو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے عطاء نے کہا میں نے جابر سے پوچھا کہ آپ کی مراد اس سے کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کی مراد صرف کچے لہسن سے تھی۔ مخلد بن یزید نے ابن جریج کے واسطہ سے (الانیہ کے بجائے) الانتنہ نقل کیا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف لہسن کی بدبو سے تھی)۔

صحیح بخاری حدیث ۸۵۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس درخت کو کھائے، اور مراد لہسن تھی، وہ ہماری مسجدوں میں نہ آئے۔ عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں سمجھتا ہوں آپ صلى الله عليه وسلم کی مراد صرف کچا لہسن تھی۔ ایک روایت میں بدبو کا مفہوم بھی آیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسجد کا ادب اور بدبو سے بچنا ہے۔ یہاں عام کھانے کی ممانعت نہیں، بلکہ ایسی حالت میں مسجد آنے سے روکا گیا ہے جب لہسن کی بو دوسروں کو تکلیف دے سکتی ہو۔ اس لیے نماز اور مسجد کے آداب میں صفائی، خوشبو اور دوسروں کی راحت کو اہم سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کچا لہسن کھا کر مسجد آنے سے روکا گیا۔
  • مسجد میں بدبو لے کر آنا نمازیوں کے لیے تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
  • روایت میں لہسن کی بو کو اصل وجہ کے طور پر سمجھا گیا۔
  • مسجد کے آداب میں دوسروں کی راحت کا خیال شامل ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں