صحیح بخاری حدیث ۹۱۴ - اذان کا جواب دینے کا عمل
اذان کا جواب: منبر پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا عمل
صحیح بخاری : ۹۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۱۴
حَدَّثَنَا بْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا ، فَلَمَّا أَنْ قَضَى التَّأْذِينَ ، قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمَجْلِسِ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُمْ مِنِّي مِنْ مَقَالَتِي " .
ابوامامہ بن سہل بن حنیف روایت:
میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ منبر پر بیٹھے، مؤذن نے اذان دی «الله أكبر الله أكبر» معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا «الله أكبر الله أكبر» مؤذن نے کہا «أشهد أن لا إله إلا الله» معاویہ نے جواب دیا «وأنا» اور میں بھی توحید کی گواہی دیتا ہوں مؤذن نے کہا «أشهد أن محمدا رسول الله» معاویہ نے جواب دیا «وأنا» اور میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہوں جب مؤذن اذان کہہ چکا تو آپ نے کہا حاضرین! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی جگہ یعنی منبر پر آپ بیٹھے تھے مؤذن نے اذان دی تو آپ یہی فرما رہے تھے جو تم نے مجھ کو کہتے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۹۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں اذان کا جواب دینے کا عمل بیان ہوا ہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تھے، مؤذن نے اذان دی تو انہوں نے «الله أكبر الله أكبر» کا جواب انہی الفاظ سے دیا۔ جب مؤذن نے شہادتین کہیں تو انہوں نے «وأنا» یعنی میں بھی گواہی دیتا ہوں کہا۔ اذان مکمل ہونے کے بعد انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ، یعنی منبر پر، مؤذن کی اذان کے وقت یہی کہتے سنا تھا جو تم نے مجھ سے سنا۔ اس حدیث کا موضوع اذان کا جواب، توحید کی گواہی، رسالت کی گواہی اور نبوی عمل کی پیروی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان سنتے وقت اس کا جواب دینا ثابت عمل ہے۔
- توحید اور رسالت کی گواہی کو دل سے دہرانا چاہیے۔
- صحابہ کرام اپنے عمل کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واضح کرتے تھے۔
- منبر پر بھی اذان کا جواب دینے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
