صحیح مسلم حدیث ۱۲۸۵ - نماز میں کمی یا زیادتی
نماز میں کمی یا زیادتی ہو جائے تو سجدہ سہو کیسے کیا جائے؟
صحیح مسلم : ۱۲۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۸۵
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَالْوَهْمُ مِنِّي ؟ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ، ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ کیا یا کم کیا۔ ابرہیم نے کہا: جو اس حدیث کے راوی ہیں اللہ کی قسم! یہ بھول مجھ سے ہوئی ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! کیا نماز کے باب میں کوئی نیا حکم ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے بیان کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدمی ہوں تمہاری طرح یاد رکھتا ہوں جیسے تم یاد رکھتے ہو اور بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو پھر جو کوئی نماز میں بھول جائے تو وہ دو سجدے کرے اس حال میں کہ وہ بیٹھا ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں بھول کے بارے میں ایک بہت کام آنے والی رہنمائی دیتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی گئی، پھر آپ سے نماز میں کمی یا زیادتی ہوئی۔ راوی ابراہیم نے صاف کہا کہ اس بات کا وہم میری طرف سے ہے، یعنی انہوں نے اپنی بات میں احتیاط کی۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ پھر جب آپ کو بتایا گیا کہ کیا ہوا، تو فرمایا کہ میں تمہاری طرح آدمی ہوں، بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔ پھر فرمایا کہ جب کوئی نماز میں بھول جائے تو بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے۔ اس روایت میں سجدہ سہو کا حکم، نماز میں کمی یا زیادتی اور بیٹھ کر دو سجدے کرنے کا ذکر صاف موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں کمی یا زیادتی بھول سے ہو سکتی ہے۔
- بھول کی صورت میں دو سجدے بیٹھے ہوئے کیے گئے۔
- راوی نے اپنی بات میں احتیاط دکھائی اور وہم کو اپنی طرف منسوب کیا۔
- نیا حکم سمجھنے سے پہلے نبی صلى الله عليه وسلم سے وضاحت لی گئی۔
