صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۲ - ہر نماز میں عذاب قبر سے پناہ
ہر نماز میں عذاب قبر سے پناہ: ایک آسان نبوی دعا
صحیح مسلم : ۱۳۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۲۲
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ قَالَتْ : وَمَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَ ذَلِكَ ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
عائشہ روایت:
اس کے بعد میں نے ہمیشہ سنا جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مختصر مگر بہت اہم بات بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ اس واقعہ کے بعد جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے، وہ آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتی تھیں۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ نماز صرف فرض ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے حفاظت مانگنے کا بہترین وقت بھی ہے۔ عذاب قبر سے پناہ کی دعا دل کو آخرت کی یاد دلاتی ہے اور بندے کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر ایک مضبوط عمل بتایا گیا ہے: نماز میں اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کی درخواست کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ عذاب قبر کی حدیث اور نماز کی دعا جیسے الفاظ اس روایت کے اصل مضمون سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں اللہ سے عذاب قبر سے پناہ مانگنا نبوی عمل ہے۔
- اہم دینی بات معلوم ہو جائے تو اسے دعا اور عمل میں شامل کرنا چاہیے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل امت تک پہنچایا۔
- آخرت کی فکر نماز کے اندر بھی زندہ رہنی چاہیے۔
