صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۷ - ہر نماز کے بعد تسبیح 33 بار

ہر نماز کے بعد تسبیح، تکبیر اور تحمید کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۴۷

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ ، أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ ، وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ ، إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تُسَبِّحُونَ ، وَتُكَبِّرُونَ ، وَتَحْمَدُونَ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ، ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً " ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا ، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ ، يُؤْتِهِ مَنْ يَشَاءُ ، وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سُمَيٌّ ، فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : وَهِمْتَ ، إِنَّمَا قَالَ : " تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابوہریرہ روایت:

فقراء مہاجرین رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ مالدار لوگ بلند درجوں پر پہنچ گئے اور ہمیشہ کی نعمتیں لوٹ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے عرض کی کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ دیتے ہیں اور ہم نہیں دے سکتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں آزاد کر سکتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایسی چیز سکھا دوں کہ جو تم سے آگے ہوں ان کو تم پالو اور اپنے پیچھے والوں کے ہمیشہ آگے رہو اور کوئی تم سے درجہ میں بڑھ کر نہ ہو مگر وہ جو وہی کام کرے جو تم کرتے ہو۔“ انہوں نے عرض کی کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تسبیح و تکبیر و تحمید کرو ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ۔“ابوصالح نے کہا: پھر مہاجرین رسول اللہ صلی کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ ہمارے بھائیوں نے سن پایا جو اہل مال ہیں ہماری اس دعا کو اور وہ بھی پڑھنے لگے جیسے ہم پڑھتے ہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے دے۔“ (یعنی اس میں میرا کیا اختیار ہے) قتیبہ کے علاوہ راویوں نے اس روایت میں یہ بڑھایا کہ لیث، ابن عجلان سے راوی ہے کہ سمی نے کہا کہ میں نے یہ حدیث اپنے کسی گھر والوں سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ تم بھول گئے۔اس روایت میں یوں ہے کہ ”تسبیح کرے تو اللہ کی تینتیس ۳۳ بار اور تحمید کرے تو اللہ کی تینتیس ۳۳ بار اور تکبیر کہے اللہ کی تینتیس ۳۳ بار“، پھر میں ابوصالح کے پاس گیا اور میں نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: اللہ اکبر سے الحمدللہ تک تینتیس ۳۳ بار کہے یعنی اللہ بڑا ہے اور پاک ہے اللہ اور سب تعریف اللہ کو ہے اور اللہ بڑا ہے اور پاک ہے اللہ اور سب اسی کے لئے ہے۔اب عجلان نے کہا: میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ سے بیان کی تو انہوں نے اسی کے مثل مجھ سے روایت کی ابوصالح سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں فقراء مہاجرین رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ مالدار لوگ نماز اور روزہ تو ہماری طرح کرتے ہیں، مگر وہ صدقہ بھی دیتے ہیں اور غلام بھی آزاد کرتے ہیں، جبکہ ہم یہ نہیں کر سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ایسا عمل بتایا جس کے ذریعے وہ نیکی میں آگے بڑھ سکتے تھے: ہر نماز کے بعد تسبیح، تکبیر اور تحمید تینتیس مرتبہ۔ اس حدیث میں نماز کے بعد تسبیح 33 بار، سبحان اللہ الحمدللہ اللہ اکبر بعد نماز، اور اذکار بعد فرض نماز کا واضح ذکر ہے۔ جب مالدار صحابہ کو بھی یہ عمل معلوم ہوا تو وہ بھی اسے کرنے لگے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے دے۔ اس سے بندے کو حسد نہیں بلکہ اللہ کے فضل کو ماننے کی تعلیم ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کم ہو تو بھی ذکر کے ذریعے نیکی کا بڑا راستہ کھلا ہے۔
  • ہر نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر پڑھنے کی تعلیم دی گئی۔
  • دوسروں کو نیکی کرتے دیکھ کر اللہ کے فضل کو ماننا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں