صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۸ - تسبیح، تحمید، تکبیر 33 بار
تسبیح، تحمید اور تکبیر کے 33 کلمات
صحیح مسلم : ۱۳۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۴۸
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ ، عَنِ اللَّيْثِ ، إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ : ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ المهاجرين 61 ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، يَقُولُ سُهَيْلٌ : إِحْدَى عَشْرَةَ ، إِحْدَى عَشْرَةَ ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ .
ابوہریرہ روایت:
فقراء مہاجرین نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! مال والے بلند درجوں پر پہنچ گئے اور ہمیشہ کی نعمتیں لے گئے۔ غرض روایت کی انہوں نے مثل حدیث شیبہ کے جو لیث سے مروی ہے مگر اتنی بات انہوں نے مدرج کی (اور مدرج یہ ہے کہ راوی کا قول کسی روایت میں ملا دے) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ابوصالح کے قول سے کہ پھر لوٹ کر آئے فقراء مہاجرین آخر حدیث تک اور زیادہ کیا حدیث میں کہ سہیل نے کہا کہ ہر کلمہ گیارہ گیارہ بار کہے کہ سب مل کر تینتیس ۳۳ بار ہو جائیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی واقعے کو بیان کرتی ہے جس میں فقراء مہاجرین نے عرض کیا کہ مالدار لوگ بلند درجوں میں آگے بڑھ گئے، کیونکہ وہ صدقہ دیتے اور غلام آزاد کرتے ہیں۔ روایت میں پچھلی حدیث جیسا مضمون ہے، مگر اس میں سہیل کا یہ بیان بھی آیا کہ ہر کلمہ گیارہ گیارہ بار کہا جائے تو سب مل کر تینتیس ہو جاتے ہیں۔ یہاں متن میں راوی کے قول کے شامل ہونے کا ذکر بھی موجود ہے، اس لیے بات کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔ اصل دینی سبق یہی ہے کہ نماز کے بعد ذکر، تسبیح بعد نماز، اور سبحان اللہ الحمدللہ اللہ اکبر کے کلمات بندے کے لیے آسان نیکی ہیں۔ یہ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ صحابہ نیکی کے راستے پوچھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایسا عمل بتاتے تھے جو مال نہ ہونے پر بھی کیا جا سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذکر ایسا عمل ہے جو مال کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔
- نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر کا اہتمام سکھایا گیا۔
- حدیث بیان کرتے وقت راوی کے الفاظ اور اصل متن میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔
