صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۳ - نماز عصر کا وقت اور صحن میں دھوپ

نماز عصر کا وقت: صحن میں دھوپ باقی رہنے کی نشانی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۸۳

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا ، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ فِي حُجْرَتِهَا " .

عائشہ روایت:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ ان کے صحن میں ہوتی تھی اوپر نہ چڑھتی تھی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۳ کا خلاصہ

یہ روایت بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے اور نماز عصر کے وقت کو آسان مثال سے سمجھاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور اس وقت دھوپ ان کے صحن میں موجود ہوتی تھی، ابھی سایہ حجرے میں ظاہر نہیں ہوا تھا۔ اس بیان سے “نماز عصر جلد پڑھنا” اور “عصر کی نماز کی حدیث” جیسے سوالات کا ایک صاف جواب ملتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا معمول عصر کو ایسے وقت ادا کرنے کا تھا جب دن کی روشنی باقی ہوتی۔ حدیث میں صحن، دھوپ اور سایہ کا ذکر ہے؛ یہی اس کا اصل دائرہ ہے۔ اس سے ہمیں نماز کے اوقات کو سنجیدگی سے سمجھنے اور وقت آنے پر نماز کی تیاری کرنے کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم عصر کی نماز روشنی باقی رہتے ادا کرتے تھے۔
  • دھوپ اور سایہ نماز کے وقت کو سمجھنے کی واضح علامت کے طور پر آئے ہیں۔
  • نماز کے وقت میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کا اشارہ ملتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں