صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۴ - حجرے میں سورج اور عصر کی نماز
نماز عصر کا وقت: جب سورج حجرے میں موجود تھا
صحیح مسلم : ۱۳۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور ابھی سورج میرے حجرے میں ہوتا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز عصر کا وقت بیان کیا ہے۔ الفاظ مختصر ہیں مگر بات واضح ہے: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عصر پڑھتے تھے اور سورج ابھی ان کے حجرے میں ہوتا تھا۔ اس سے “عصر کی نماز کا وقت” سمجھنے والوں کو یہ نکتہ ملتا ہے کہ نماز عصر کو اتنا مؤخر نہیں کیا جاتا تھا کہ سورج کی روشنی ختم ہونے لگے۔ یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون سے ملتی ہے، مگر اس میں خاص لفظ “حجرہ” آیا ہے۔ عام مسلمان کے لیے پیغام آسان ہے: نماز کے وقت کو پہچانو، وقت پر توجہ دو، اور عصر کو ایسی تاخیر میں نہ ڈالو جس سے نماز کا معمول کمزور ہو جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کی نماز کے وقت سورج ابھی حجرے میں موجود تھا۔
- مختصر روایت بھی نماز کے وقت کی اہم بات سمجھا سکتی ہے۔
- نماز عصر کے وقت کو روزمرہ مشاہدے سے پہچانا جا سکتا ہے۔
