صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۸ - آیت نماز وسطیٰ اور نماز عصر کا بیان
نماز وسطیٰ آیت: نزول، نسخ اور احتیاط
صحیح مسلم : ۱۴۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۲۸
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ ، فَنَزَلَتْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 " ، فَقَالَ رَجُلٌ ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ : هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ،
براء بن عازب روایت:
یہ آیت اتری «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلاَةِ الْعَصْر» یعنی ”حفاظت کرو نمازوں پر اور نماز عصر پر“ اور ہم اس کو پڑھتے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ پھر یہ منسوخ ہو گئی اور اتری «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى» (یعنی حفاظت کرو نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی) تو ایک شخص شقیق کے پاس بیٹھا تھا غرض کہ اس نے کہا کہ اب تو صلوٰۃ وسطیٰ یہی نماز عصر ہے۔ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو تم کو بتلاچکا ہوں کہ یہ کیوں کر اتری اور کیوں کر اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کر دیا اور اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ایک آیت کے نزول اور پھر اس کے نسخ کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلے الفاظ میں نمازوں کی حفاظت کے ساتھ نماز عصر کا ذکر تھا، پھر بعد میں نماز وسطیٰ کے الفاظ نازل ہوئے۔ جب ایک شخص نے کہا کہ پھر نماز وسطیٰ یہی نماز عصر ہے، تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے تمہیں بتا دیا کہ یہ کیسے نازل ہوئی اور کیسے اللہ نے اسے منسوخ کیا، اور اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ اس روایت میں احتیاط کا بڑا درس ہے۔ نماز وسطیٰ، نماز عصر اور آیت کے الفاظ کا معاملہ متن کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ یہاں اپنی طرف سے حتمی بحث بڑھانے کے بجائے صحابی کے احتیاط والے جواب کو سامنے رکھنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآنی آیت کے الفاظ بیان کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کو متن تک محدود رکھا۔
- نمازوں کی حفاظت اس روایت کا بنیادی پیغام ہے۔
