صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۰ - خندق کے دن عصر کی قضا اور مغرب کی ادائیگی

قضا نماز حدیث: عصر کے بعد مغرب کی ترتیب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۰

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا ، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَوَضَّأْنَا ، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ " .

جابر روایت:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خندق کے دن آئے اور قریش کے کافروں کو برا کہنے لگے اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! قسم اللہ کی میں نہیں جانتا کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آفتاب قریب غروب ہو گیا۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی میں نے بھی نہیں پڑھی۔“ پھر ہم ایک کنکریلی زمین کی طرف گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم سب نے وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں غزوہ خندق کے دن کا ایک واضح واقعہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی ہو، یہاں تک کہ سورج قریب غروب ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، صحابہ نے بھی وضو کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ یہ روایت قضا نماز، نماز عصر اور نمازوں کی ترتیب کے بارے میں اہم متن رکھتی ہے، مگر اسے اسی خاص واقعہ کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ اس سے اصل سبق یہ ہے کہ نماز رہ جائے تو اسے بھلایا نہیں جاتا، بلکہ موقع ملتے ہی ادا کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز رہ جائے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
  • حدیث میں پہلے عصر اور پھر مغرب پڑھنے کا واقعہ آیا ہے۔
  • یہ واقعہ شدید رکاوٹ اور جنگی حالت سے متعلق ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں