صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۱ - قضا نماز والی روایت کی تائید
قضا نماز کی روایت: دوسری سند سے بیان
صحیح مسلم : ۱۴۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
یحییٰ بن کثیر سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۱ کا خلاصہ
یہ روایت یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے مذکورہ بالا حدیث کے مثل نقل ہوئی ہے۔ اس میں مستقل نیا واقعہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سند سے پیش کیا گیا ہے۔ چونکہ پچھلی روایت میں غزوہ خندق کے دن عصر کی نماز کا رہ جانا، وضو کرنا، پھر سورج غروب ہونے کے بعد عصر پڑھنا اور اس کے بعد مغرب پڑھنا بیان ہوا تھا، اس روایت کو اسی کی سندی تائید کے طور پر سمجھا جائے گا۔ حدیث کی کتابوں میں اس طرح کی روایات بتاتی ہیں کہ ایک مضمون کئی راستوں سے نقل ہوا۔ عام قاری کے لیے اصل احتیاط یہ ہے کہ اس روایت سے کوئی نیا حکم الگ سے نہ بنایا جائے، بلکہ اسے قضا نماز اور نماز عصر کے مذکورہ واقعہ کی تائید سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں نیا مستقل حکم نہیں آیا۔
- یہ پچھلی قضا نماز والی روایت کی تائید ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت متن اور سند دونوں کا فرق سمجھنا چاہیے۔
