صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۲ - فجر اور عصر میں فرشتوں کا جمع ہونا
فجر اور عصر کی نماز: فرشتوں کی گواہی والی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ ، وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے رہتے ہیں (یعنی حفاظت کے لئے) اور نماز فجر اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر چڑھ جاتے ہیں وہ فرشتے جو رات کو تمہارے پاس تھے اور پروردگار ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ جب ہم نے ان کو چھوڑا جب بھی وہ نماز پڑھتے تھے (یعنی صبح کی) اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے جب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں فجر اور عصر کی نماز کی بڑی پیاری فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں اور نماز فجر اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر جو فرشتے رات کو تمہارے پاس تھے وہ اوپر جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے، کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے، اور جب ہم ان کے پاس آئے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ حدیث فجر اور عصر کی نماز، فرشتوں کی گواہی اور نماز کی پابندی کا خوبصورت احساس دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر اور عصر کی نمازوں کا وقت خاص توجہ چاہتا ہے۔
- حدیث میں فرشتوں کے آنے جانے اور جمع ہونے کا ذکر ہے۔
- نماز پڑھتے ہوئے بندے کا حال اللہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اللہ سب جانتا ہے۔
