صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۳ - فرشتوں والی حدیث کی دوسری روایت
فجر و عصر میں فرشتے: روایت کی تائید
صحیح مسلم : ۱۴۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۳
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَالْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تمہارے پاس آگے پیچھے آتے ہیں۔“ باقی ابوالزناد کی حدیث کی طرح ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۳ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کو دوسرے طریق سے بیان کرتی ہے کہ فرشتے تمہارے پاس آگے پیچھے آتے ہیں۔ متن میں باقی بات ابوالزناد کی حدیث جیسی بتائی گئی ہے، اس لیے اسے اسی مضمون کی تائید سمجھنا چاہیے جس میں رات اور دن کے فرشتوں کا آنا جانا اور فجر و عصر میں جمع ہونا بیان ہوا۔ یہاں نیا مستقل حکم نہیں، بلکہ اسی فضیلت کی دوسری سند ہے۔ عام قاری کے لیے اصل پیغام یہ ہے کہ فجر اور عصر کی نماز کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ جب حدیث میں فرشتوں کا ذکر آتا ہے تو بندے کو اپنی نماز کے وقت کا احساس اور بڑھ جاتا ہے، مگر وضاحت صرف اسی قدر ہونی چاہیے جتنا متن میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ پچھلی فرشتوں والی حدیث کی تائید ہے۔
- فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی کا احساس بڑھتا ہے۔
- متن میں جو بات مختصر آئی ہے، اسے اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
