صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۴ - رب کو دیکھنے کی بشارت اور فجر و عصر
فجر اور عصر کی نماز: رب کو دیکھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۴
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، يَعْنِي الْعَصْرَ ، وَالْفَجْرَ ، ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا سورة طه آية 130 " .
جریر روایت:
ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کو چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”بے شک تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے جیسے دیکھتے ہو اس چاند کو ہرگز ایک دوسرے کی آڑ میں نہ ہو گے اس کے دیکھنے میں۔ پھر اگر تم سے ہو سکے تو نہ ہارو سورج نکلنے کے قبل کی نماز اور سورج غروب ہونے کے قبل کی نماز میں یعنی فجر اور عصر میں۔ پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» یعنی ”پاکی بول اپنے رب کی تعریف کے ساتھ قبل طلوع آفتاب کے اور قبل غروب کے“۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو اہم باتیں ایک ساتھ آئی ہیں۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھتے ہو، اس کے دیکھنے میں ایک دوسرے کی آڑ نہیں ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے والی نماز اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز میں مغلوب نہ ہونا، یعنی فجر اور عصر میں۔ یہ حدیث رب کو دیکھنے کی بشارت، نماز فجر کی فضیلت اور نماز عصر کی حفاظت کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔ وضاحت میں ہمیں یہی کہنا چاہیے جو متن میں ہے، اور اس پر اپنی طرف سے غیر ضروری تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں رب کو دیکھنے کا بیان چاند کی مثال سے آیا ہے۔
- فجر اور عصر کی نمازوں میں مغلوب نہ ہونے کی تاکید ہے۔
- نماز کی حفاظت کو بڑے ایمانی مضمون کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
