صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۵ - رب کے سامنے پیشی اور فجر و عصر
رب کے سامنے پیشی: فجر اور عصر کی نماز کی یاد دہانی
صحیح مسلم : ۱۴۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، بهذا الإسناد ، وَقَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ ، فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ ، وَقَالَ : ثُمَّ قَرَأَ وَلَمْ يَقُلْ جَرِيرٌ .
مسلم نے کہا اور روایت کی ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے، انہوں نے عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ اور وکیع سے اس اسناد سے اور اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پروردگار کے آگے پیش کئے جاؤ گے، پھر اس کو دیکھو گے جیسے دیکھتے ہو اس چاند کو“ اور کہا کہ پھر پڑھی یہ آیت اور سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۵ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں الفاظ آئے ہیں کہ تم اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاؤ گے، پھر اسے دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھتے ہو۔ متن میں یہ بھی بتایا گیا کہ آیت پڑھی گئی، مگر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی حدیث کے الفاظ مختلف طرق میں کچھ فرق کے ساتھ آ سکتے ہیں، جبکہ اصل مضمون وہی رہتا ہے۔ یہاں بنیادی بات رب کو دیکھنے کا بیان اور فجر و عصر کی نمازوں کی حفاظت ہے جو پچھلی روایت میں واضح ہو چکی ہے۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ فجر اور عصر کی نماز کو دن کے آغاز اور اختتام کے اہم موقع سمجھ کر ادا کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی حدیث کے الفاظ طرق کے فرق سے کچھ بدل سکتے ہیں۔
- اصل مضمون رب کو دیکھنے اور نماز کی حفاظت کا ہے۔
- فجر اور عصر کے وقت کو نماز کے لیے خاص اہمیت دی گئی ہے۔
