صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۶ - فجر اور عصر پڑھنے والے کے لیے دوزخ سے بچاؤ
فجر اور عصر کی نماز: دوزخ سے بچاؤ والی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَمِسْعَرٍ ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ ، سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، يَعْنِي الْفَجْرَ ، وَالْعَصْرَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ الرَّجُلُ : وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .
عمار روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے: ”نہ داخل ہوگا کبھی وہ شخص دوزخ میں جس نے نماز ادا کی قبل طلوع آفتاب کے اور قبل غروب آفتاب کے۔“ یعنی فجر اور عصر کی۔ سو بصرہ والوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ تم نے سنا ہے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی سنا ہے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، سنا ہے میرے کانوں نے اور یاد رکھا ہے مرے دل نے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے کہ وہ شخص دوزخ میں داخل نہ ہوگا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی، یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، پھر بصرہ کے ایک شخص نے بھی گواہی دی کہ اس نے بھی اپنے کانوں سے سنا اور دل نے یاد رکھا۔ یہ حدیث فجر اور عصر کی نماز کی فضیلت کو بہت مضبوط انداز میں بیان کرتی ہے۔ چونکہ وعدہ حدیث کے الفاظ میں آیا ہے، اسے بیان کیا جا سکتا ہے، مگر ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ متن خاص طور پر ان دو نمازوں کے پڑھنے کا ذکر کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں فجر اور عصر کی نمازوں کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
- راوی نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سننے کی گواہی دی۔
- حدیث کے وعدے کو اسی الفاظ اور دائرے میں بیان کرنا چاہیے۔
