صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۷ - فجر و عصر کی نماز اور حدیث کی گواہی
فجر و عصر کی فضیلت: سننے والوں کی گواہی
صحیح مسلم : ۱۴۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۳۷
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَقَالَ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ ، لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ .
عمارہ روایت:
سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داخل نہ ہو گا دوزخ میں جس نے نماز پڑھی آفتاب کے نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔“ اور ان کے پاس بصرہ والوں میں سے ایک شخص تھا۔ اس نے کہا: کیا تم نے سنا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو اس نے کہا میں بھی گواہی دیتا ہوں اس پر کہ میں نے بھی سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے ایسے اسی مکان میں جہاں سے تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۳۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے، وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ متن میں بصرہ کے ایک شخص کا سوال بھی ہے کہ کیا تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ راوی نے کہا: ہاں، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر اس شخص نے بھی گواہی دی کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جگہ یہ بات سنی جہاں تم نے سنی۔ اس روایت میں فجر اور عصر کی نماز کی فضیلت کے ساتھ حدیث سننے اور اس کی گواہی دینے کا انداز بھی سامنے آتا ہے۔ عام قاری کے لیے اصل پیغام یہی ہے کہ ان دو وقتوں کی نماز کو اپنے دن کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی اہم ہے۔
- راوی نے حدیث سننے کی واضح گواہی دی۔
- متن میں دوزخ میں داخل نہ ہونے کی بشارت انہی دو نمازوں کے ساتھ آئی ہے۔
