صحیح مسلم حدیث ۱۴۵۰ - عشاء کے واقعے کی مختصر روایت

عشاء کے انتظار کی روایت میں الفاظ کا فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۵۰

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ .

قرۃ روایت:

قرۃ سے بھی اس سند کے ساتھ بھی مذکورہ روایت آئی ہے اور اس میں یہ لفظ نہیں «ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ» کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۵۰ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی واقعے کی ایک روایت ہے جس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیان کردہ عشاء کے انتظار کا مضمون آیا ہے، مگر یہاں یہ بات نہیں آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ حدیث کے طالب علم کے لیے یہ بہت اہم سبق ہے کہ روایت کے الفاظ جیسے آئیں، انہیں ویسے ہی سمجھا جائے۔ اصل موضوع یہاں بھی عشاء کی نماز کا انتظار اور واقعے کی نقل ہے، لیکن خاص فرق یہ ہے کہ ایک جملہ اس روایت میں موجود نہیں۔ عام قاری کے لیے اس سے یہ بات آسانی سے سمجھ آتی ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت راویوں نے الفاظ کی حفاظت کی۔ اس روایت سے کوئی نیا الگ حکم نہیں نکلتا، بلکہ یہ پچھلے واقعے کی لفظی صورت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت کے الفاظ میں فرق کو امانت کے ساتھ نقل کیا گیا۔
  • اسی واقعے کی مختصر صورت بھی محفوظ ہے۔
  • حدیث سمجھتے وقت موجود الفاظ ہی بنیاد بنتے ہیں۔
  • عشاء کے انتظار کا مضمون سابقہ روایت سے جڑا ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں