صحیح مسلم حدیث ۱۴۵۱ - عشاء کے انتظار والوں کے لیے خوشخبری
عشاء کی نماز کا انتظار اور اللہ کی نعمت کا احساس
صحیح مسلم : ۱۴۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۵۱
وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ ، نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي ، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ : " أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا ، أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ " ، أَوَ قَالَ : مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ، لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوموسیٰ روایت:
میں اور میرے رفیق جو کشتی میں آئے تھے یہ سب بقیع کی کنکریلی زمین میں اترے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے اور ہم میں سے ایک جماعت عشاء کے وقت ہر روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باری باری سے آتی تھی۔ سو ایک دن میں چند ساتھیوں کے ساتھ حاضر خدمت ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کام تھا کہ اس میں مشغول تھے۔ یہاں تک کہ نماز میں دیر ہوئی اور رات نصف کے قریب ہو گئی۔پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سب کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر جب فارغ ہوئے تو حاضرین سے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو میں تم کو خبر دیتا ہوں اور تم کو بشارت ہو کہ تمہارے اوپر اللہ کا احسان یہ تھا کہ اس وقت تمہارے سوا کوئی آدمی نماز نہیں پڑھتا یا فرمایا کہ ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ میں نہیں جانتا ان دونوں میں سے کون سی بات کہی۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کے سننے کے سبب خوشی خوشی واپس پھرے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۵۱ کا خلاصہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں عشاء کی نماز کا انتظار ایک خوبصورت انداز میں سامنے آتا ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی مدینہ کے قریب ٹھہرے ہوئے تھے، اور ہر رات ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عشاء کے وقت آتے تھے۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ نماز میں دیر ہوئی اور رات نصف کے قریب ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور حاضر لوگوں سے فرمایا کہ ٹھہرو، تمہیں خبر دیتا ہوں اور خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ کی نعمت ہے کہ اس وقت تمہارے سوا کوئی نماز نہیں پڑھ رہا، یا اسی مفہوم کے الفاظ فرمائے۔ راوی نے الفاظ میں شک بھی امانت سے بیان کیا۔ اس حدیث میں انتظار، جماعت، خوشی، اور روایت کی احتیاط سب موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
- عشاء کی نماز میں ایک رات دیر ہوئی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو خوشخبری دی۔
- راوی نے اپنے شک کو بھی صاف طور پر بیان کیا۔
