صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۵ - جمعہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت تنبیہ
جمعہ کی نماز چھوڑنے پر سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۱۴۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۸۵
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ " .
عبداللہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے ہیں ان کے حق میں ارادہ کرتا ہوں کہ حکم کروں ایک شخص کو جو لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں جلا دوں ان لوگوں کے گھر جو جمعہ کو نہیں آتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث جمعہ کی نماز کی اہمیت کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں سخت ارادہ ظاہر فرمایا جو جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ارادہ کرتا ہوں کہ ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں کے گھر جلا دوں جو جمعہ میں نہیں آتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع جمعہ کی نماز، مسجد میں حاضری، اور جماعت کے ساتھ نماز ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ مسلمانوں کا عام اجتماع نہیں بلکہ نماز کا اہم فریضہ ہے۔ جو شخص بغیر عذر کے جمعہ کی نماز کو معمولی سمجھے، وہ حدیث کی اس سخت تنبیہ کو سامنے رکھے اور اپنے دل میں جمعہ کی قدر پیدا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کی نماز میں حاضر ہونا بہت اہم ہے۔
- جمعہ کو معمولی اجتماع سمجھ کر چھوڑنا درست نہیں۔
- مسلمان کو نماز جمعہ کے لیے سنجیدگی دکھانی چاہیے۔
- حدیث میں جمعہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت الفاظ آئے ہیں۔
